18 مارچ 2010 - 20:30

یمن کے ایک عالم دین نے کہا ہے کہ القاعدہ کے بہانے اس ملک میں امریکہ کی براہ راست مداخلت اس ملک پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے .

القدس العربی کی رپورٹ کےمطابق عبدالمجید الزندانی نے یمن میں القاعدہ کےخلاف جدوجہد کےبہانےامریکہ کی براہ راست مداخلت کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک پر دوبارہ فوجی قبضہ اور اسے کالونی بنائے جانے کوتسلیم نہيں کریں گے۔الزيدانی نے اٹھائیس جنوری کولندن میں یمن کے بارے میں عالمی کانفرنس کے انعقاد پرمخالفت کااعلان کیا اور کہا کہ جولوگ یہ کانفرنس کراناچاہتے ہیں ان کاخیال ہے کہ یمنی حکومت ملک کوچلانے کی توانائی نہيں رکھتی ۔انھوں نے یمن کے عوام سے مطالبہ کیا کہ قبل اس کے ان پر دوسروں کو مسلط کیا جائے  وہ اس طرح کے مسائل کی جانب متوجہ ہوجائيں۔اس درمیان یمن کے ایک سیاستداں نےبھی  اس ملک میں امریکہ  کی فوجی مداخلت کےبارے میں خبردارکیاہے۔العالم کی رپورٹ کےمطابق محمدمسعد الرداعی نے کہا ہے کہ اس ملک میں القاعدہ کی موجودگي کےبارے میں بڑے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ کے پیچھے یمن میں اغیارکی فوجی مداخلت کے خطرے سمیت بہت سے مقاصد اورخطرات پوشیدہ ہیں۔ انھوں نےعرب اوراسلامی دنیااورتیل کے ذخائر سے مالامال علاقے پر یمن میں فوجی قبضے کے ممکنہ سیکورٹی اورجغرافیائي نتائج کے بارے میں خبردارکیا  الرادعی نے بحران یمن کو بڑھا چڑھا کرپیش کرنے اورالقاعدہ کی موجودگی بہانے امریکہ کے کروز میزائل سے المعجلہ علاقے پر حملے کی جانب اشارہ کرتےہوئے جس میں ساٹھ سے زيادہ عورتیں اوربچے مارے گئے  کہا کہ اس سے اس منصوبے کا پتہ چلتاہے جویمنی حکومت کودیاگیا ہے ۔